technology

قومی خبریں

business

کاروباری

تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے، عشق انسان کی ضرورت ہے : پوری غزل پڑھیں

تم نہ مانو، مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے

کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے
کچھ تری یاد بھی قیامت ہے

میرے محبوب مجھ سے جھوٹ نہ بول
جھوٹ صورت گر صداقت ہے

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو میری ضرورت ہے

حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے

ان کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے

راستہ کٹ ہی جائے گا قابل
شوقِ منزل اگر سلامت ہے

(قابل اجمیری)


Post A Comment
  • Blogger Comment using Blogger
  • Facebook Comment using Facebook
  • Disqus Comment using Disqus

No comments :


three columns

cars

grids

health